
عالمی مارکیٹس میں اہم ڈیٹا جاری ہونے سے پہلے معمول کی خاموشی ہے، کیونکہ ٹریڈرز یورپ اور امریکہ سے افراطِ زر کے اہم اشاروں کے منتظر ہیں۔ چین کے بارے میں ملے جلے خدشات اور جاپان کی مداخلت کے اندیشے مارکیٹ کی رفتار پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اس کے ساتھ، امریکی ڈالر اور یورو دونوں میں زیادہ تر کوئی خاص حرکت نہیں، لیکن NZDUSD کو چین سے بڑی مایوسی نہ ہونے اور ملکی سطح پر مثبت سینٹیمنٹ ڈیٹا سے سہارا ملا ہے۔ مزید یہ کہ ایشیا پیسیفک خطے میں محتاط امید پسندی سے AUDUSD کو بھی فائدہ ہوا ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے مثبت ڈیٹا کے باوجود USDCHF میں کوئی خاص جان نہیں۔
USDCAD تیل کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا، جبکہ سونا دباؤ میں ہے اور تین ماہ کی کم ترین سطح پر ہے۔
دوسری جانب، بڑے Bitcoin ہولڈرز کی بھاری لانگ پوزیشنز اور BTC ETF درخواستوں کی فہرست میں ایک اور درخواست کے اضافے کے باوجود BTCUSD اور ETHUSD گزشتہ روز کی بحالی کے بعد ہونے والی تیزی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، یورپ میں کرپٹو کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے برطانیہ میں ایک بل کی منظوری بھی اہم ڈیجیٹل اثاثوں کی مثبت کارکردگی کو سہارا دے رہی ہے۔ تاہم، امریکا میں مہنگائی بڑھنے اور شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات خریداروں کی تیزی کو محدود کر رہے ہیں۔
اہم اثاثوں کی تازہ ترین نقل و حرکت درج ذیل ہے:



ٹریڈرز آج یورو زون اور امریکا کے افراطِ زر کے اعداد و شمار سے مرکزی بینکوں کے حکام کے ان بیانات کی تصدیق چاہتے ہیں جن میں شرح سود بڑھنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اسی لیے اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے کی بے چینی قیمتوں کی سست پیش رفت کا باعث بن رہی ہے، اگرچہ ہفتہ وار رجحان برقرار ہے۔
اس کے ساتھ امریکا اور چین کے تعلقات کے بارے میں ملے جلے خدشات، اور برطانیہ اور جرمنی میں کساد بازاری کی مشکلات حقیقت بننے کے اندیشے، ٹریڈنگ کی نقل و حرکت کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
نتیجتاً، جرمنی کے حوصلہ افزا ریٹیل سیلز اعداد و شمار اور برطانیہ کی مضبوط GDP مارکیٹ کے شرکاء کو زیادہ متاثر نہ کر سکے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس ہفتے ECB فورم میں خطاب کرنے والے زیادہ تر مرکزی بینکروں نے سخت مانیٹری پالیسیوں کا دفاع کیا، لیکن کوئی نئی بات نہیں کہی۔ اس لیے شرح سود مزید بڑھانے کی ان کی صلاحیت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری جانب، صنعت سے متعلق زیادہ تر مثبت خبروں اور سہ ماہی کے اختتام پر پوزیشنز کی ایڈجسٹمنٹ کے باعث حصص کی قیمتیں بتدریج بڑھ رہی ہیں، اور کرپٹو کرنسیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
آگے چل کر، مارکیٹ کے شرکا پہلے یورو زون کے HICP اور CPI افراطِ زر کے اعداد پر نظر رکھیں گے، پھر US Core PCE Price Index کو بغور دیکھیں گے، جسے افراطِ زر کا وہ اشارہ سمجھا جاتا ہے جسے Fed سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ کینیڈا کی GDP اور بعض مرکزی بینکوں کے عہدیداروں کی تقاریر بھی اہم ہوں گی۔ اگر مقررہ افراطِ زر کے اعداد قیمتوں پر شدید دباؤ کی نشاندہی کریں، تو US Dollar ہفتے میں دوسری بار اضافہ درج کر سکتا ہے اور Gold، ایکویٹیز اور AUDUSD جیسے دیگر زیادہ رسک والے اثاثوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ٹریڈنگ میں قسمت آپ کا ساتھ دے!