
بدھ کی صبح عالمی مارکیٹس میں Fed کے فیصلے سے پہلے کی پوزیشننگ نظر آ رہی ہے۔ محتاط امید کے ماحول میں امریکی ڈالر کی گراوٹ سے USD کے علاوہ دیگر کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے۔ گرین بیک کی کمزوری کی وجہ حالیہ ملے جلے اعداد و شمار اور یہ خدشات بھی ہو سکتے ہیں کہ بینکنگ سیکٹر میں بے چینی کے پیش نظر Fed کے پاس بہت زیادہ ہاکش ہونے کی گنجائش محدود ہے۔
دوسری جانب، ایشیا پیسیفک میں مضبوط اقتصادی نمو کی امیدیں اور قرض کی حد کی مدت ختم ہونے کے قریب پیش آنے والے مسئلے کے فوری حل کے لیے امریکی پالیسی سازوں کی کوششیں بھی مارکیٹ کے قدرے مثبت رجحان کو تقویت دے رہی ہیں، جس سے USD پر مزید نیچے کی طرف دباؤ پڑ رہا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ECB اور BoE کی جانب نسبتاً زیادہ ہاکش پالیسی کی توقعات نے یورو اور پاؤنڈ کو گرین بیک کے مقابلے میں مضبوط رہنے میں مدد دی۔
اس کے ساتھ، USDJPY، USD کو چھوڑ کر G10 میں سب سے زیادہ بڑھنے والی کرنسیوں میں سرفہرست ہے، جس کے بعد GBPUSD اور EURUSD ہیں۔ مزید یہ کہ سونے کی قیمت بتدریج بڑھ رہی ہے، جبکہ خام تیل بھی گزشتہ روز بھاری گراوٹ کے بعد سنبھل رہا ہے۔ اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ کے روزگار کے حوصلہ افزا اعداد و شمار اور آسٹریلیا کی ریٹیل سیلز میں مضبوط اضافے سے بالترتیب NZDUSD اور AUDUSD کو تقویت مل رہی ہے۔
دوسری طرف، ضابطہ کاری سے متعلق خدشات اور اس تناؤ کے باعث کہ Fed کی زیادہ شرحیں BTCUSD اور ETHUSD کے ٹریڈرز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں، کرپٹو کرنسیاں امریکی ڈالر کی کمزور کارکردگی سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہیں۔
اہم اثاثوں کی تازہ ترین نقل و حرکت درج ذیل ہے:



شرحِ سود میں اضافے کا سلسلہ روکنے کے لیے مرکزی بینکوں، خاص طور پر Fed، کے پاس متعدد وجوہات ہونے کی توقعات کے باعث ٹریڈنگ کا رجحان حیرت انگیز طور پر مثبت ہو گیا۔ اسی دوران کساد بازاری کے امکانات بھی کم ہوتے دکھائی دیے۔ تاہم، یہ خدشات کہ امریکی پالیسی سازوں کو بینکنگ بحران سے بچنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور قرض کی حد کی مدت ختم ہونے سے مارکیٹ کے رسک پروفائل پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے، تشویش کا باعث ہیں۔ دوسری جانب، ایشیا پیسیفک کی کرنسیاں اور ایکویٹیز مضبوط رہیں، اگرچہ چین اور جاپان میں تعطیلات کی وجہ سے Fed کے فیصلے سے پہلے کی احتیاط کے ماحول میں مارکیٹ کی نقل و حرکت محدود رہی۔
اس کے علاوہ، سخت امریکی ضوابط کے خدشات اور Fed کے فیصلے سے پہلے کی بے چینی کے باعث کرپٹو سیکٹر میں پوزیشنز کی لیکویڈیشن سے BTCUSD اور ETHUSD کی قیمتوں پر دباؤ پڑ رہا ہے، اگرچہ امریکی ڈالر کمزور ہوا ہے۔
مارکیٹس کی توجہ فیڈ کی پالیسی میں تبدیلی سے متعلق تازہ خبر پر زیادہ ہے، کیونکہ 0.25% شرح سود میں اضافہ پہلے ہی معلوم ہے اور مارکیٹ میں اس کا اثر شامل ہو چکا ہے۔ تاہم، اہم FOMC اعلانات سے پہلے امریکی ADP Employment Change اور ISM Services PMI ٹریڈرز کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور بینکنگ کمیٹی کی تازہ ترین معلومات بھی اہم ہیں، کیونکہ امریکا کے ڈیفالٹ اور بینکنگ بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اگر فیڈ مارکیٹ کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ سخت پالیسی پر قائم رہ سکتا ہے، تو ایکویٹیز اور کموڈیٹیز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ دوسری طرف، کوئی غیر متوقع مثبت پیش رفت سونے کی قیمت کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے، کیونکہ یہ حال ہی میں قلیل مدتی مزاحمتی سطح عبور کر چکی ہے۔
ٹریڈنگ میں قسمت آپ کا ساتھ دے!